نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

عادل راجا کی کال لیکس


عادل راجا کی اب تک انڈین ایجنسی را کے ساتھ کی گئی گفتگو کی دو کلپس لیک ہوچکی ہیں۔ 

اس نے خود اپنی پروفائل پر لکھ رکھا ہے کہ میں 'انٹرنینشل ہومن رائٹس فاؤنڈیشن' کا نمائندہ ہوں۔ اس ادارے کے بارے میں مرحوم ارشد شریف نے انکشاف کیا تھا کہ یہ را کی قائم کردہ فیک این جی او ہے جسکا نشانہ صرف پاکستان ہے۔ 

اسی عادل راجا نے عمران خان اور پی ٹی آئی کو مسٹر ایکس، مسٹر وائی اور ڈرٹی ہیری وغیرہ کا بیانیہ دیا۔ 

اگر یہ کہا جائے کہ بشری بی بی کے بعد پی ٹی آئی کا بیڑہ غرق کرنے میں اس شخص نے سب سے اہم کردار ادا کیا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ پی ٹی آئی کو ایک سیاسی جماعت سے ایک فوج دشمن گروہ میں تبدیل کرنے میں عادل راجا کا کردار سب سے اہم ہے۔ 

اب اپنی لیک ہونے لی آڈیوز کی وہ زور و شور سے تردید کر رہا ہے کہ یہ جعلی ہیں جن میں وہ انڈینز کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہا ہے۔ 

اگر یہ آڈیوز جعلی ہیں تو کوئی پی ٹی آئی والا ایسی ہی ایک فیک کنورسیشن ڈیپ فیک یا آرٹیفیشل انٹلیجنس سے بنوا کر دیکھا دے؟ ۔۔ یا پھر عادل راجہ کا کوئی کلپ ہی دیکھا دیں جہاں سے کوئی جملہ کاٹا گیا ہو؟ کسی معتبر ادارے سے فرانزک کروا دیں؟؟

عادل راجا کی یہ کلپس بلکل اصلی ہیں۔ پی ٹی آئی کے لیے مصیبت یہ بنتی ہے کہ اگر ان کے اصلی ہونے کا اعتراف کر لے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ عادل راجا نے پی ٹی آئی جو پاک فوج کے خلاف جو بھی بیانیہ بنا کر دیا وہ دراصل اس کو انڈین ایجنسی را کی طرف سے ملا تھا۔ عادل راجا نے کمال مہارت اس بیانیے کے لیے پوری پی ٹی آئی کو استعمال کر ڈالا بشمول عمران خان کے۔ فوج سے لوگوں کو متنفر کرنے کی مہم میں اپنی پاؤ بوٹی کے لیے عادل راجا نے پوری پی ٹی آئی کی گائے کو زبح کر ڈالا۔ 

دلچسپ بات یہ ہے کہ بظاہر پی ٹی آئی کے کچھ بڑے اکاؤنٹس اب بھی عادل راجا کی حمایت میں بول رہے ہیں اور اس کو محب وطن قرار دے رہے ہیں۔ ان اکاؤنٹس پر غور کریں تو ان میں سب سے بڑا ایکس سروس مین سوسائیٹی کا ٹویٹر اکاونٹ ہے جو شروع سے عادل راجا کے ہی پاس ہے اور اس سے وہ خود اپنے حق میں ٹویٹس کرتا رہتا ہے۔ دوسرے چند ایسے اکاؤنٹس ہیں جن کے ہینڈلرز پاکستان کے باہر بیٹھے ہیں۔ ان کو دیکھ کر پی ٹی آئی کا عام ورکر بھی یہی سمجھتا ہے کہ شائد یہ سچ کہہ رہے ہیں اور عادل واجہ واقعی محب وطن اور پی ٹی آئی کا خیر خواہ ہوگا۔ 

ایک چیز اور بھی دیکھی۔ جب عادل راجا کچھ زیادہ ہی مشکوک حرکتیں کرنے لگتا ہے تو پی ٹی آئی کے کچھ لوگ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ جی یہ تو پی ٹی آئی کا ہے ہی نہیں۔ یہ تو سابقہ فوجی ہے۔ اگر ایسا ہے تو پی ٹی آئی ایک بار آفیشلی عادل راجا سے اظہار لاتعلقی کر دے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ اس کی تمام تر فالونگ پی ٹی آئی کی ہے اور اس کے ہر جھوٹ کو پی ٹی آئی تبرک کی طرح پھیلاتی ہے۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسرائیل کے خلاف معاہدے پر پاسداران کی تشویش

مکہ معاہدے پر ایران کا ابتدائی ردعمل بلکل وہی نظر آیا جو اسرائیل کا ہے یعنی انکو اس معاہدے پر تشویش ہے اور وہ بھی اسکو اسرائیل کے سابق وزیراعظم کی طرح "سنی اتحاد" قرار دے رہے ہیں۔  لیکن اگر بغور دیکھیں تو مکہ معاہدے پر تنقید ایران میں پاسداران کے وہی لوگ کر رہے ہیں جو نیتن یاہو کی طرح جنگ جاری رکھنے پر بضد ہیں، جو اسرائیل اور خلیج میں کھڑے امریکی بحری بیڑے کو نشانہ بنانے کے خلاف ہیں، جو امریکہ کے ہر حملے کے جواب میں خلیج کے مسلمان ملکوں کو نشانہ بنانے کا حامی ہیں، جنہوں نے پاکستان کا کرایا گیا تاریخی معاہدہ توڑ کر دوبارہ جنگ شروع کروائی، جنہوں نے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کا مذاق اڑایا اور جو آبنائے ہرمز پر بھتہ لینے پر بضد ہیں۔  ہاں یہ سچ ہے کہ ایران میں سب کی رائے یہ نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے ایران میں پاسداران کے جن غداروں نے ایران کی سیاسی اور فوجی قیادت کو مروایا تھا وہی اب ایران کی پالیسیوں کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ معاہدے کے حوالے سے پاکستان سمیت تینوں فریقوں نے واضح کیا ہے کہ یہ کسی ملک پر حملے کے لیے نہیں بلکہ دفاع کے لیے کیا گیا معاہدہ ہے۔ تو کیا ایران سعودی عرب، ترکی یا پا...

مسئلہ کشمیر کی تاریخ اور پس منظر

  1846ء میں انگریزوں نے سکھوں کو شکست دے کر کشمیر پر اپنی حکومت قائم کر لی۔ لیکن اسی سال 16 مارچ 1846ء کو انگریزوں نے اپنے وفادار گلاب سنگھ ڈوگرا کو 12 بکریوں، ایک گھوڑے، چند شالوں اور 75 لاکھ نانک شاہی کے بدلے کشمیر کی ریاست بیچ دی! برصغیر کی تقسیم کے وقت فیصلہ ہوا کہ خود مختار ریاستیں خود فیصلہ کرینگی کہ وہ کس کے ساتھ شامل ہونا چاہتی ہیں تاہم انگریز حکومت کے ماتحت علاقوں کے الحاق کا فیصلہ ہندو مسلم اکثریت کی بنیاد پر کیا جائیگا۔ یہ بات یاد رکھئے کہ 1846ء کے بعد کشمیر میں کئی ایسے واقعات ہوئے جن کے بعد کشمیر کی خود مختاری متنازع ہو چکی تھی۔ کشمیر میں غیر جانبدار ذرائع کے مطابق مسلمانوں کی آبادی 77 فیصد تھی جبکہ کشمیر کی نمائندہ مسلمان جماعتوں کے مطابق مسلمان آبادی کا تناسب 90 فیصد تھا۔ تب اسکو تاج برطانیہ کے زیر تسلط علاقہ تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بنانا چاہئے تھا۔ کشمیر میں 1924ء میں ہندو ڈوگرا کے خلاف آزادی کی تحریک جنم لے چکی تھی جس نے بعد میں سیاسی مزاحمت کی شکل اختیار کر لی۔ مسلم کانفرس کے نام سے کشمیر میں مسلمانوں کی سب سے بڑی نمائندہ سیاسی جماعت وجود میں آئی۔ اس جماعت ...