سپریم کورٹ کے ایک جسٹس صاحب نے قانون اور آئین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی چھٹہ کی سزا معطل کرنے کا حکم صادر کر دیا اور اسلام آباد ہائی کورٹ کو کیس دوبارہ سننے کی ہدایت کر دی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کا مقدمہ ابھی ہائی کورٹ میں زیر التواء تھا جہاں سزا کی معطلی کی درخواستیں زیرِ سماعت تھیں۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 185 کے تحت سپریم کورٹ عام طور پر اپیل کا فورم ہے، نہ کہ ہائی کورٹ کے زیرِ التواء کیس کو از خود اپنے پاس منگوا کر ترجیحی بنیاد پر نمٹانے کا۔ مگر یہاں ہزاروں زیر التواء مقدمات کو ایک طرف رکھ کر اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے اس جوڑے کا کیس ماورائے معمول اٹھا لیا گیا اور ضمانت دے دی گئی۔ یہ رویہ نہ صرف عدلیہ کی آزادی کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ آئین کے آرٹیکل 25 میں درج مساواتِ قانون کے اصول کو بھی پامال کرتا ہے۔ یہ اقدام اس کہاوت کو سچ ثابت کر گیا کہ “اچھا وکیل کرنے کی ضرورت نہیں، جج کر لو سب سیٹ ہو جائے گا”۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 426 کے تحت سزا کی معطلی عام طور پر اپیل سننے والی عدالت (ہائی کورٹ) کا اختیار ہے، مگر سپریم کورٹ نے یہاں غیر معمولی طور پر مداخلت کر کے نظامِ ...
نثار احمد کھوڑو پاکستان پیپلز پارٹی کا سینئر رہنما، موجودہ سینیٹر اور سندھ چیپٹر کا صدر ہے۔ یہ 2016 سے 2018 تک سندھ کا صوبائی وزیر خوراک رہا۔ دو سال کے اس مختصر عرصہ میں موصوف 10 ارب کی گندم کتر گیا تھا۔ جب پوچھا گیا تو نہایت ڈھٹائی سے فرمایا کہ چوہے کتر گئے ہیں۔ 2020 کے اوائل میں سندھ محکمہ خوراک نے خود اس بات کا انکشاف کیا کہ صوبے کے 15 مختلف اضلاع کے سرکاری گوداموں سے بڑی مقدار میں گندم غائب ہو گئی ہے، جس کی مالیت تقریباً 10 ارب روپے کے آس پاس ہے۔ محکمہ نے ابتدائی انکوائری کے بعد اس معاملے کو قومی احتساب بیورو (نیب) کے سپرد کر دیا تاکہ جامع تحقیقات کی جا سکیں۔ الزامات میں گندم کی خریداری، ذخیرہ اندوزی، غیر قانونی فروخت، گوداموں سے چوری اور فلور ملز کو کوٹے کی تقسیم میں اختیارات کے ناجائز استعمال شامل تھے۔ ابتدائی تحقیقات میں اس غبن اور ہیرپھیر کے پیچھے وزیرخوراک صاحب کا ہاتھ نظر آیا۔ اس حوالے سے ان پر نیب کیس بھی بنا۔ نیب سکھر نے نثار کھوڑو کو سندھ فوڈ ڈیپارٹمنٹ میں مبینہ کرپشن کی انکوائری میں طلب کیا۔ 2018 میں بھی نیب نے ان کے اور سکھر فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے افسران کے خلاف ان...