سپریم کورٹ کے ایک جسٹس صاحب نے قانون اور آئین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی چھٹہ کی سزا معطل کرنے کا حکم صادر کر دیا اور اسلام آباد ہائی کورٹ کو کیس دوبارہ سننے کی ہدایت کر دی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کا مقدمہ ابھی ہائی کورٹ میں زیر التواء تھا جہاں سزا کی معطلی کی درخواستیں زیرِ سماعت تھیں۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 185 کے تحت سپریم کورٹ عام طور پر اپیل کا فورم ہے، نہ کہ ہائی کورٹ کے زیرِ التواء کیس کو از خود اپنے پاس منگوا کر ترجیحی بنیاد پر نمٹانے کا۔ مگر یہاں ہزاروں زیر التواء مقدمات کو ایک طرف رکھ کر اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے اس جوڑے کا کیس ماورائے معمول اٹھا لیا گیا اور ضمانت دے دی گئی۔ یہ رویہ نہ صرف عدلیہ کی آزادی کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ آئین کے آرٹیکل 25 میں درج مساواتِ قانون کے اصول کو بھی پامال کرتا ہے۔ یہ اقدام اس کہاوت کو سچ ثابت کر گیا کہ “اچھا وکیل کرنے کی ضرورت نہیں، جج کر لو سب سیٹ ہو جائے گا”۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 426 کے تحت سزا کی معطلی عام طور پر اپیل سننے والی عدالت (ہائی کورٹ) کا اختیار ہے، مگر سپریم کورٹ نے یہاں غیر معمولی طور پر مداخلت کر کے نظامِ ...
شاہد لاگز پر پاکستان، عالمی سیاست، تاریخ، صحت، ٹیکنالوجی اور سماجی موضوعات پر معلوماتی، تحقیقی اور تجزیاتی اردو مضامین پڑھیں۔