نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کچھ جاوید ھاشمی کے بارے میں

جاوید ھاشمی نے اپنا سیاسی کیریئر جماعت اسلامی سے شروع کیا۔ جماعت اسلامی کے ساتھ ملکر ایوب خان کے خلاف نعرہ لگایا کہ 'فوجیو بیرکوں میں واپس جاؤ'۔ اصغر خان کی تحریک استقلال کی مقبولیت اور بڑے بڑے جلسے دیکھے تو فوراً جماعت اسلامی چھوڑ کر تحریک استقلال میں کود گئے۔ لیکن اس سے پہلے کہ اس میں سے اسکو کچھ ملتا جنرل ضیاء کا مارشل لاء لگ گیا لہذا ایک لمحہ ضائع کیے بغیر یہ موصوف جنرل ضیاء کی کابینہ میں شامل ہوگئے۔ تب اس نے نعرہ لگایا کہ "صرف فوج ہی اس ملک کو بہتر طور پر چلا سکتی ہے۔"

1988ء میں جنرل ضیاء شہید ہوگئے اور جنرل حمید گل نے انکو بتایا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ن لیگ کی حکومت بنے تو فوراً ن لیگ میں شمولیت اختیار کرلی۔ ن لیگ میں اقتدار کے خوب مزے لوٹے اور پھر مشرف کا  مارشل لاء لگ گیا۔ موصوف نے شیخ رشید کے ذریعے وزارت کی شرط پر کابینہ میں شمولیت مانگی جو نہ ملی تو خود کو باغی کہلوایا اور جیل چلا گیا۔ 

جیل سے برآمد ہوا اور مشرف کا دور ختم ہوا تو ن لیگ ختم ہوتی نظر آئی۔ جنرل ظہیر السلام عباسی سے مری میں انکی ملاقات ہوئی جس نے انکو بتایا کہ فوج اس وقت تحریک انصاف کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ سننا تھا کہ 2011 میں پی ٹی آئی جوائن کر لی۔ عمران خان نے فوراً انکو پی ٹی آئی کا صدر بنا دیا۔ 

مصیبت یہ ہوئی کہ تمام توقعات کے برعکس پی ٹی آئی 2013ء کا الیکشن ہار گئی اور دوبارہ نواز شریف کی حکومت بن گئی۔ جاوید ھاشمی شدید مایوس ہوا۔ عمران خان نے ڈی چوک پر احتجاج کے نام پر ناچ گانے کا پروگرام چلا دیا تو جاوید ھاشمی نے کنٹینر پر کھڑے ہوکر فرمایا کہ "میرا لیڈر تو نواز شریف ہے۔" اس دوران اس نے تین بار ن لیگ میں واپسی کی درخواست دی۔ عرفان صدیقی سے بھی سفارش کروائی لیکن بات نہ بنی۔ یہ دیکھ کر عمران خان نے اسی کنٹینر پر کھڑے ہوکر جاوید ھاشمی کو پارٹی سے نکالنے کا اعلان کردیا۔ 

یہ سب ہونے کے بعد موصوف کچھ عرصہ اول فول بکتے رہے۔ کبھی ایک کو گالی کبھی دوسرے کو گالی۔ اس دوران اسکی بےپناہ کرپشن اور کروڑوں روپے کی بجلی چوری پر کچھ مقدمات چلے تو فرمایا "میں اس وقت اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہوں تو مجھ پر جھوٹے مقدمات بنائے جارہے ہیں۔"

ن لیگ سے مکمل مایوس ہوکر دوبار پی ٹی آئی کی سپورٹ شروع کر دی تو پی ٹی آئی کے چوہدری سلیم نے انکشاف کیا کہ جاوید ھاشمی نے تو فنڈز کے نام پر پی ٹی آئی دوبارہ جوائن کرنے سےپہلے ہی مجھ سے رشوت مانگ لی ہے۔ 

70 سالہ جاوید ھاشمی کو 50 سالہ سیاسی کیریئر میں ابھی تک کوئی "صحیح پارٹی" نہیں ملی۔ اب مرتے مرتے پی ٹی آئی سے اس ٹکٹ کی بھیک مانگ رہا ہے جو شاہ محمود قریشی کا ہے اور جو اس وقت پی ٹی آئی کی خاطر جیل میں ہیں۔ شاہ محمود قریشی کا پتہ کاٹنے کے لیے جاوید ھاشمی عمران خان کو خوش کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے اور کچھ بڑھ کر کرنا چاہتا ہے۔ اس کے لیے وی لاگز بنا کر فوج کو خوب برا بھلا کہہ رہا ہے اور عمران خان کے قصیدے پڑھ رہا ہے۔ اب عمران خان کے ساتھ ملکر پھر کہہ رہا ہے کہ 'فوجیو بیرکوں میں واپس جاؤ'۔ بیچ میں فوج کے تلوے چاٹ کر جو بیس سال تک مسلسل دولت اور اقتدار کے مزے لوٹے اسکو اپنی نادانی کا دور کہتا ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسرائیل کے خلاف معاہدے پر پاسداران کی تشویش

مکہ معاہدے پر ایران کا ابتدائی ردعمل بلکل وہی نظر آیا جو اسرائیل کا ہے یعنی انکو اس معاہدے پر تشویش ہے اور وہ بھی اسکو اسرائیل کے سابق وزیراعظم کی طرح "سنی اتحاد" قرار دے رہے ہیں۔  لیکن اگر بغور دیکھیں تو مکہ معاہدے پر تنقید ایران میں پاسداران کے وہی لوگ کر رہے ہیں جو نیتن یاہو کی طرح جنگ جاری رکھنے پر بضد ہیں، جو اسرائیل اور خلیج میں کھڑے امریکی بحری بیڑے کو نشانہ بنانے کے خلاف ہیں، جو امریکہ کے ہر حملے کے جواب میں خلیج کے مسلمان ملکوں کو نشانہ بنانے کا حامی ہیں، جنہوں نے پاکستان کا کرایا گیا تاریخی معاہدہ توڑ کر دوبارہ جنگ شروع کروائی، جنہوں نے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کا مذاق اڑایا اور جو آبنائے ہرمز پر بھتہ لینے پر بضد ہیں۔  ہاں یہ سچ ہے کہ ایران میں سب کی رائے یہ نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے ایران میں پاسداران کے جن غداروں نے ایران کی سیاسی اور فوجی قیادت کو مروایا تھا وہی اب ایران کی پالیسیوں کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ معاہدے کے حوالے سے پاکستان سمیت تینوں فریقوں نے واضح کیا ہے کہ یہ کسی ملک پر حملے کے لیے نہیں بلکہ دفاع کے لیے کیا گیا معاہدہ ہے۔ تو کیا ایران سعودی عرب، ترکی یا پا...

عادل راجا کی کال لیکس

عادل راجا کی اب تک انڈین ایجنسی را کے ساتھ کی گئی گفتگو کی دو کلپس لیک ہوچکی ہیں۔  اس نے خود اپنی پروفائل پر لکھ رکھا ہے کہ میں 'انٹرنینشل ہومن رائٹس فاؤنڈیشن' کا نمائندہ ہوں۔ اس ادارے کے بارے میں مرحوم ارشد شریف نے انکشاف کیا تھا کہ یہ را کی قائم کردہ فیک این جی او ہے جسکا نشانہ صرف پاکستان ہے۔  اسی عادل راجا نے عمران خان اور پی ٹی آئی کو مسٹر ایکس، مسٹر وائی اور ڈرٹی ہیری وغیرہ کا بیانیہ دیا۔  اگر یہ کہا جائے کہ بشری بی بی کے بعد پی ٹی آئی کا بیڑہ غرق کرنے میں اس شخص نے سب سے اہم کردار ادا کیا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ پی ٹی آئی کو ایک سیاسی جماعت سے ایک فوج دشمن گروہ میں تبدیل کرنے میں عادل راجا کا کردار سب سے اہم ہے۔  اب اپنی لیک ہونے لی آڈیوز کی وہ زور و شور سے تردید کر رہا ہے کہ یہ جعلی ہیں جن میں وہ انڈینز کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہا ہے۔  اگر یہ آڈیوز جعلی ہیں تو کوئی پی ٹی آئی والا ایسی ہی ایک فیک کنورسیشن ڈیپ فیک یا آرٹیفیشل انٹلیجنس سے بنوا کر دیکھا دے؟ ۔۔ یا پھر عادل راجہ کا کوئی کلپ ہی دیکھا دیں جہاں سے کوئی جملہ کاٹا گیا ہو؟ کسی معتبر ادارے سے فرانزک کروا د...

مسئلہ کشمیر کی تاریخ اور پس منظر

  1846ء میں انگریزوں نے سکھوں کو شکست دے کر کشمیر پر اپنی حکومت قائم کر لی۔ لیکن اسی سال 16 مارچ 1846ء کو انگریزوں نے اپنے وفادار گلاب سنگھ ڈوگرا کو 12 بکریوں، ایک گھوڑے، چند شالوں اور 75 لاکھ نانک شاہی کے بدلے کشمیر کی ریاست بیچ دی! برصغیر کی تقسیم کے وقت فیصلہ ہوا کہ خود مختار ریاستیں خود فیصلہ کرینگی کہ وہ کس کے ساتھ شامل ہونا چاہتی ہیں تاہم انگریز حکومت کے ماتحت علاقوں کے الحاق کا فیصلہ ہندو مسلم اکثریت کی بنیاد پر کیا جائیگا۔ یہ بات یاد رکھئے کہ 1846ء کے بعد کشمیر میں کئی ایسے واقعات ہوئے جن کے بعد کشمیر کی خود مختاری متنازع ہو چکی تھی۔ کشمیر میں غیر جانبدار ذرائع کے مطابق مسلمانوں کی آبادی 77 فیصد تھی جبکہ کشمیر کی نمائندہ مسلمان جماعتوں کے مطابق مسلمان آبادی کا تناسب 90 فیصد تھا۔ تب اسکو تاج برطانیہ کے زیر تسلط علاقہ تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بنانا چاہئے تھا۔ کشمیر میں 1924ء میں ہندو ڈوگرا کے خلاف آزادی کی تحریک جنم لے چکی تھی جس نے بعد میں سیاسی مزاحمت کی شکل اختیار کر لی۔ مسلم کانفرس کے نام سے کشمیر میں مسلمانوں کی سب سے بڑی نمائندہ سیاسی جماعت وجود میں آئی۔ اس جماعت ...