انڈین میڈیا واویلا کر رہا ہے کہ حوثیوں کے سعودیہ پر حملوں کے جواب میں پاکستان یمن پر حملہ کیوں نہیں کررہا اور یہ کہ یہ معاہدہ غیرموثر ہے لہذا اگر ہم ایسا ہی حملہ پاکستان پر کریں تو ہمیں بھی اس معاہدے سے کوئی خطرہ نہیں۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ حوثی نان سٹیٹ ایکٹرز ہیں طالبان کی طرح۔ ایران کے علاوہ اس وقت کچھ لوگوں کا گمان ہے کہ ان میں موساد کے عناصر بھی ہیں جو سعودی عرب پر حملے کر کے سعودی عرب ایران جنگ شروع کروانا چاہتے ہیں اور ساتھ ساتھ مکہ معاہدے کو بھی کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ ان حوثیوں سے سعودی عرب خوب اچھے طریقے سے نمٹ رہا ہے۔ جب کہ مکہ معاہدہ دوسری ممالک کے حملوں کی صورت میں مشترکہ دفاع کی بات کرتا ہے۔
آپ نوٹ کریں کہ پاکستان کی طالبان کے ساتھ باقاعدہ جنگ چل رہی ہے۔ پاکستان نے افغانستان میں کاروائیاں کی ہیں۔ طالبان نے پاکستان میں دہشتگردانہ حملوں کے ذریعے ہزاروں شہریوں کو شہید کر دیا ہے۔ لیکن اس کے باؤجود سعودی عرب نے دو دن پہلے انہی طالبان کے ساتھ سرمایہ کاری کا بہت بڑا معاہدہ کیا ہے۔ جس پر پاکستان خوش ہوا ہے۔ لہذا مکہ معاہدہ دہشتگردی سے لڑنے والا کوئی معمولی اتحاد نہیں۔
انڈیا نے چند سال پہلے اسرائیل اور یو اے ای کی ساتھ اسی ٹائپ کا ایک دفاعی معاہدہ کیا تھا آئی ٹو یو ٹو کے نام سے۔ اس پر انڈیینز نے بڑی خوشی کا اظہار کیا تھا کہ اب انڈیا کا دفاع بہت پھیل گیا ہے۔ پھر انڈیا پاکستان کی جنگ ہوئی۔ اسرائیل نے پاکستان پر حملہ نہیں کیا۔ پھر اسرائیل اور ایران کی جنگ ہوئی۔ انڈیا نے ایران پر حملہ نہیں کیا۔ جب معاہدہ موجود تھا تو انڈیا کی جرات کیوں نہیں ہوئی؟ یاد رہے کہ یہ دہشتگردانہ گروہوں کی کوئی دہشتگردانہ کاروائی نہیں تھی بلکہ ممالک کی باقاعدہ جنگ تھی۔ تو انڈیا اپنے سٹریٹیجک دفاعی معاہدے کے تحت جنگ میں کیوں نہیں کودا؟ یا اسرائیل نے انڈیا کی مدد کے لیے پاکستان پر حملہ کیوں نہیں کیا؟
لہذا انڈیا ہمیں یہ سبق نہ پڑھائے کہ ہمیں سعودی عرب کی مدد کب اور کس طرح کرنی چاہئے اور ہم اپنے معاہدے کی پاسداری کیسے کرینگے۔ مکہ معاہدے سے انڈیا اور اسرائیل کو جو تکلیف ہے وہ دنیا کو نظر آرہی ہے۔ بلکہ اب وہ یہ کوشش بھی کر رہے کہ اس معاہدے میں کچھ ایسے ممالک کو گھسائیں جو اس کو سبوتاژ کر سکیں۔ وہ کوششیں ناکام ہوگئیں تو پٹ رہے ہیں کہ پاکستانی فوج یمنی حوثیوں سے لڑنے کیوں نہیں جارہی۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں