نثار احمد کھوڑو پاکستان پیپلز پارٹی کا سینئر رہنما، موجودہ سینیٹر اور سندھ چیپٹر کا صدر ہے۔ یہ 2016 سے 2018 تک سندھ کا صوبائی وزیر خوراک رہا۔ دو سال کے اس مختصر عرصہ میں موصوف 10 ارب کی گندم کتر گیا تھا۔ جب پوچھا گیا تو نہایت ڈھٹائی سے فرمایا کہ چوہے کتر گئے ہیں۔
2020 کے اوائل میں سندھ محکمہ خوراک نے خود اس بات کا انکشاف کیا کہ صوبے کے 15 مختلف اضلاع کے سرکاری گوداموں سے بڑی مقدار میں گندم غائب ہو گئی ہے، جس کی مالیت تقریباً 10 ارب روپے کے آس پاس ہے۔ محکمہ نے ابتدائی انکوائری کے بعد اس معاملے کو قومی احتساب بیورو (نیب) کے سپرد کر دیا تاکہ جامع تحقیقات کی جا سکیں۔ الزامات میں گندم کی خریداری، ذخیرہ اندوزی، غیر قانونی فروخت، گوداموں سے چوری اور فلور ملز کو کوٹے کی تقسیم میں اختیارات کے ناجائز استعمال شامل تھے۔ ابتدائی تحقیقات میں اس غبن اور ہیرپھیر کے پیچھے وزیرخوراک صاحب کا ہاتھ نظر آیا۔
اس حوالے سے ان پر نیب کیس بھی بنا۔ نیب سکھر نے نثار کھوڑو کو سندھ فوڈ ڈیپارٹمنٹ میں مبینہ کرپشن کی انکوائری میں طلب کیا۔ 2018 میں بھی نیب نے ان کے اور سکھر فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے افسران کے خلاف انکوائری کی منظوری دی تھی۔ 2021 میں نیب ایگزیکٹو بورڈ نے نثار کھوڑو اور فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے افسران کے خلاف دو تحقیقات کی منظوری دی۔ الزامات میں 2013-2018 کے عرصے (جب وہ فوڈ وزیر رہے) کے دوران گندم کے ذخائر کی غبن، غیر محفوظ ضمانتوں پر گندم کی رہائی اور منی لانڈرنگ بھی شامل تھے۔
نثار کھوڑو کے پاس اپنی بےگناہی ثابت کرنے کو کچھ نہیں۔ لیکن وہ سندھ کی کرپٹ ھائی کورٹ سے بار بارعبوری/پری ارریسٹ ضمانت حاصل کرتے رہے اور اس میں توسیع بھی کروائی۔ نیب نے انکوائری جاری رکھتے ہوئے مزید وقت مانگا، جو عدالت نے نیب کو نہیں دیا۔ 10 ارب کی گندم ہڑپنے کے باؤجود یہ موصوف آزاد پھر رہا ہے۔
اس کے علاو نثار کھوڑو کے خلاف اراضی پر قبضے اور دیگر کرپشن کیسز بھی موجود ہیں۔ سندھ محکمہ خوراک میں گندم سے متعلق کرپشن کے متعدد دیگر کیسز (جیسے لاڑکانہ، حیدرآباد وغیرہ میں اربوں کی غبن) سامنے آتے رہے ہیں، جن میں افسران برطرف ہوئے اور ریکوری کے احکامات جاری کیے گئے، مگر نثار کھوڑو کو ہاتھ نہیں لگایا گیا۔
یہ اسکینڈل پاکستان میں گندم کی خریداری، ذخیرہ اور تقسیم کا ایک بڑا سکینڈل ہے اور اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سندھ میں کرپشن کس لیول پر ہورہی ہے۔ نیب کی تحقیقات اکثر طویل ہوتی ہیں اور قانونی تبدیلیوں کی وجہ سے بھی تاخیر کا شکار رہتی ہیں۔ نثار کھوڑو اور پیپلز پارٹی اس کمزوری کا فائدہ اٹھا کر مزے کر رہے ہیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں