گولڈ سمتھ خاندان کے چشم و چراغ اور عمران خان کے بیٹوں قاسم و سلیمان نے وہی رٹا رٹایا بیان دہرایا کہ ہمارا باپ سیاسی قیدی ہے، اسکا علاج نہیں ہورہا اور اس کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور اسکی نظر بہت خراب ہوگئی ہے وغیرہ وغیرہ۔ بلکل یہی رپورٹ ایمنسٹی انٹرنینشل نے اپنی 4 اگست کی رپورٹ میں شائع کر دی۔ جن یں یہی دعوے دہرائے گئے کہ ۔۔۔
عمران خان کو منصفانہ ٹرائل کا حق نہیں دیا جا رہا۔
ان کو طویل عرصے سے تنہائی کی قید میں رکھا گیا ہے۔
انکا علاج نہیں ہورہا۔
انکی بہنوں سے ملاقات نہیں ہورہی۔
ان کی نظر بہت خراب ہو گئی ہے۔
مزید یہ کہ 5 اگست کو پی ٹی آئی جو مظاہرہ کر رہی ہے اس میں حکومت یا ریاست پاکستان کسی قسم کی کوئی رکاؤٹ نہ ڈالے۔
قاسم و سلیمان کے دعوؤں کو پرنٹ کرکے پبلش کرنے سے پہلے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کوئی تحقیق کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی مثلا عمران خان کا اپنا وکیل سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروا چکا ہے جس میں عمران خان کو حاصل تمام سہولیات کا تفصلی ذکر ہے جو کسی فائیو سٹار ہوٹل جیسی سہولیات ہیں۔ بہنوں نے ملاقاتیں اس لیے نہیں ہورہیں کیونکہ وہ سیاسی ملاقاتیں چاہتی ہیں جب کہ قیدیوں سے سیاسی ملاقاتیں پاکستان میں خلاف قانون ہیں بلکہ دنیا کے اکثر ممالک میں خلاف قانون ہیں۔ پاکستان کے بہتری معالج انکا علاج کر رہے ہیں۔
عمران خان کے خلاف مقدمات عدالتوں میں چل رہے ہیں، کچھ میں بریت بھی ہوئی، کچھ میں سزائیں ہوئی ہیں۔ ایمنسٹی نے 2024 میں بھی انہیں "سیاسی طور پر محرک" قرار دیا تھا، بغیر اس بات کا مکمل جائزہ لیے کہ پاکستان کا آئینی اور قانونی نظام کیا کہتا ہے۔ ایمنسٹی دعوے کرتی ہے لیکن اکثر مقامی عدالتی ریکارڈ، جیل حکام کی رپورٹس یا سرکاری ثبوت کو نظر انداز کر دیتی ہے۔
ایمنسٹی اکثر مغربی نقطہ نظر سے کام کرتی ہے۔ وہ پاکستان کے اندرونی عدالتی عمل اور قانون کے مطابق چلنے والے مقدمات کو "سیاسی" قرار دے دیتی ہے، جبکہ دوسرے ممالک (جہاں حقیقی جبر ہوتا ہے) پر اتنی شدت سے بات نہیں کرتی۔ خاص طور پر غزہ اور مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر ایمنسٹی انٹرنیشنل گنگ ہوجاتی ہے۔
کسی خودمختار ملک کے عدالتی اور اندرونی معاملات میں بار بار مداخلت کی التجا کرنا قومی وقار کے منافی ہے۔ ایمنسٹی اور اس جیسے ادارے اکثر پاکستان جیسے ممالک پر دباؤ ڈالتے ہیں جبکہ اپنی مالی مدد دینے والے مغربی ممالک کے مسائل پر خاموش رہتے ہیں۔ یہ رویہ انسانی حقوق سے زیادہ سیاسی ایجنڈے جیسا لگتا ہے۔
قاسم اور سلیمان کے بیانات کو بنیاد بنا کر بغیر آزادانہ تصدیق کے الزامات لگانا اسی طرز عمل کا حصہ ہے۔ اگر مقدمات سیاسی ہیں تو عدالتوں میں ٹھوس ثبوت پیش کیے جائیں، نہ کہ صرف بین الاقوامی اداروں سے التجا کی جائے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں